سو سے زیادہ بار ایم ایس کی گھومنے، ہر بار مل گئی اگلی تاریخ… آخرکار بچی کی زندگی ہی ختم ہو گئی!
Pratham Jhalak News
••71 ویوز•1 منٹ پڑھیں
واہ رے صحت کا نظام! لگتا ہے کہ نظام خود ہی بیمار ہے، جس کا علاج کرنے والا بھی کوئی نہیں
کوٹا، راجستھان کی ۱۵ سالہ تنوی کے دل میں چھید تھا۔ سرجری کی امید لے کر اس کا خاندان اسے ۱۰۰ سے زیادہ بار ایم ایس ڈِلی لے گیا، لیکن ہر بار دعویٰ کیا جاتا کہ علاج کی جگہ اگلی تاریخ ملتی رہی۔ خاندان امید کے سہارا ہسپتال کے چکر کٹاتا رہا اور بچی سرجری کا انتظار کرتی رہی۔ ۲۴ اگست کو تنوی روٹین جانچ کے لیے ایک بار پھر ایم ایس پہنچی، لیکن وہاں اس کی طبیعت بگڑ گئی اور اس کی موت ہو گئی۔
اب خاندان کی لچک اور درد ایک بڑا سوال پوچھ رہا ہے اگر وقت پر سرجری ہو جاتی، تو کیا آج تنوی زندہ ہوتی؟ تاریخ پر تاریخ… انتظار پر انتظار… اور آخر میں ایک بچی کی زندگی ہی ختم ہو گئی! یہ صرف ایک بچی کی موت نہیں، بلکہ اُس صحت کے نظام کی لچک پر سنگین سوال ہے، جہاں مریض علاج کی امید لے کر ہسپتال پہنچتا ہے اور انتظار کرتے‑کرتے اس کی زندگی ہی دیو پر لگ جاتی ہے۔ واہ رے صحت کا نظام! مریضوں کا علاج تو دور، لگتا ہے صحت کے نظام کی خود طبیعت خراب ہے اور اس کا علاج کرنے والا بھی کوئی نہیں!